گردے فیل ہونے کی ابتدائی علامات

گردے

گردے آپ کے اعضاء کا وہ جوڑا ہے جو آپ کی پشت میں موجود ہوتا ہے۔ اس میں سے ہر ایک گردہ آپ کی ریڑھ کی ہڈی کی کسی ایک طرف موجود ہوتا ہے۔ یہ آپ کے خون کی صفائی اور جسم سے زہریلے مادوں کے اخراج کا کام کرتے ہیں۔ گردے زہریلے مادوں کو خون میں سے چھان کر مثانے کی طرف بھیج دیتے ہیں جہاں سے یہ پیشاب کے ساتھ جسم سے باہر نکل جاتے ہیں۔

گردے فیل ہونے کا مطلب گردوں کی، اپنی خون سے فاسد اور زہریلے مادوں کو چھاننے کی، صلاحیّت سے محروم ہو جانا ہے۔

گردوں کے فیل ہونے کی علامات – Kidney failure symptoms in Urdu

گردے فیل ہونے کے شکار کسی بھی فرد میں کوئی تھوڑی بہت علامات اکثر موجود ہوتی ہیں۔ مندرجہ ذیل گردے فیل ہونے کی علامات ان کے فوری تدارک کی متقاضی ہوتی ہیں:

  •  پیشاب کی مقدار میں کمی؛
  •  ٹانگوں، ٹخنوں اور پیروں کی سوجن؛
  •  بلا وجہ سانس کا پھولنا؛
  •  بہت زیادہ نیند کا آنا یا تھکاوٹ؛
  •  تادیر برقرار رہنے والی متلی؛ ابہام یا کنفیوژن (confusion)؛
  •  چھاتی میں درد یا دباؤ؛
  •  سکتہ (seizure)؛ اور
  • بیہوشی۔

گردے فیل ہونے کی ابتدائی علامات

گردوں کا فیل ہونا ایک مرحلہ وار عمل ہوتا ہے۔ ابتدائی مرحلے کی علامات اتنی واضح نہیں ہوتیں۔ یہ عام طور پر ظاہر نہیں ہوتیں اور ان کی پہچان مشکل ہوتی ہے۔ اس لیے جیسے ہی مندرجہ ذیل گردے فیل ہونے کی علامات ظاہر ہوں فوری طور پر ان کے تدارک کے بارے میں کسی مستند اور ماہر ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے:

  •  پیشاب کی مقدار میں کمی؛
  •  جسم سے مائعات کے اخراج کی کمی وجہ سے ٹانگوں اور بازؤں کی سوجن؛ اور
  • سانس پھولنا

گردے فیل ہونے کی علامات ظاہر ہونے کی وجوہات 

  •  گردوں کی طرف خون کی سپلائی کا کم ہونا:  گردون کی طرف ایک دم سے خون کی سپلائی کا رکنا انکے فوری طور پر فیل ہونے کی وجہ بن سکتا ہے۔ ایسی بعض کیفیات کہ جن میں یہ سپلائی کم ہو جاتی ہے درجِ ذیل ہیں:
    •  دل کا دورہ؛
    • دل کی بیماری؛
    •  جگر کا سخت ہوجانا یا فیل ہو جانا؛
    •  پانی کی کمی؛
    •  بہت زیادہ جل جانا؛
    • کوئی الرجیائی ردِّ عمل؛
    • کوئی شدید انفیکشن۔
    •  بلڈ پریشر کا زیادہ ہونا؛ اور
    •  کسی سوجن دور کرنے کی دوا کا ذیلی اثر۔
  •  بلڈ پریشر کا زیادہ ہونا اور سوجن دور کرنے کی دوائیں بھی گردوں کی جانب خون کی سپلائی میں کمی لانے کا سبب بنتے ہیں۔
  • پیشاب کے اخراج میں رکاوٹ: پیشاب کے خارج ہونے کے راستے میں کسی رکاوٹ یا بیماری کی وجہ سے پیشاب کی کم مقدار خارج ہو پاتی ہے جسکی وجہ سے گردوں میں زہریلے مادے جمع رہنے لگتے ہیں اور پھر انکے فیل ہونے کا سبب بنتے ہیں۔ پیشاب کے راستے میں رکاوٹ کی مندرجہ ذیل وجوہات ہو سکتی ہیں:
    •  پراسٹیٹ (prostate) کی خرابی جو صرف مردوں میں پائی جانے والی خرابی ہے؛
    •  بڑی آنت کی خرابی؛
    •  بچہ دانی کی خرابی (صرف عورتوں میں پائی جانے والی خرابی)؛ اور
    •  مثانے میں کوئی خرابی

گردے فیل ہونے کی علامات کی توثیق کے لیے کیے جانے والے ٹیسٹ: اوپر بیان کردہ گردے فیل ہونے کی علامات کی حتمی توثیق مندرجہ ذیل ٹیسٹوں کی مدد سے کی جاتی ہے:

  •  پیشاب کے ٹیسٹ: 
    •  کیمیائی تجزیہ: پیشاب کا نمونہ لیکر اس کا کیمیائی تجزیہ کرکے یہ دیکھا جاتا ہے کہ کیا اس کی تیزابیّت، اس میں شکر یا پروٹین کی مقدار بڑھی ہوئی تو نہیں؛
    •  پیشاب میں موجود خون کے سرخ یا سفید خلیات اور پیپ کے موجود ہونے کا پتہ چلایا جاتا ہے؛
    •  پیشاب کی ایک دن کے دوران خارج ہونے والی مقدار کی پیمایش کی جاتی ہے۔ یہ سادہ ترین ٹیسٹ ہمیں اس قابل بناتا ہے کہ اگر پیشاب کی خارج ہونے والی مقدار معمول سے بہت ہی کم ہو تو یہ پیشاب کے راستے میں کسی رکاوٹ کی طرف اشارہ کرتی ہے جو گردوں کے فیل ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔
  •  خون کے ٹیسٹ: خون کا نمونہ لیکر یہ چیک کیا جاتا ہے کہ کیا خون میں وہ مادے تو اس مقدار سے زیادہ تو نہیں جو گردوں کے انہیں چھاننے کے بعد ہوا کرتی ہے۔ ان میں سب سے زیادہ قابلِ توجہ بلڈ یوریا نائٹروجن یا بی یو این (Blood Urea Nitrogen) اور کریاٹینین (Creatinine) ہیں۔ ان مادوں کا خون میں بہت زیادہ بڑھ جانا، گروں کے فیل ہونے کی علامات میں سے ایک اہم ترین علامت ہے۔
  • عکسبندی (Immaging): گردوں کی ساخت یا کام میں کسی بھی خرابی یا نقص کا براہِ راست مشاہدہ کرنے کے لیے الٹرا ساؤنڈ، ایکسرے، سی ٹی سکین اور ایم آر آئی جیسی جدید طبی عکس بندی کی تکنیکوں کو بروئے کار لایا جاتا ہے۔
  •  گردوں کی بافت کا نمونہ یا ٹشو سیمپلینگ (Kidney tissue sampling): اس کے ذریعے گردے کے گوشت کا ایک ٹکڑا کاٹ کر اسے خوردبین کے نیچے رکھ کر دیکھا جاتا ہے کہ اس میں کیا نقائص پائے جاتے ہیں۔

for more visit: oladocx.com

You May Also Like

About the Author: Dr. Maliha Khan

Leave a Reply

Your email address will not be published.