ٹائیفائیڈ بخار کی علامات اور علاج

ٹائیفائیڈ کی علامات

ٹائیفائیڈ بخار کیا ہے؟

ٹائیفائیڈ بخار انتڑیوں کی ایک بیماری ہے جو ایک خاص قسم کے بیکٹیریا کی وجہ سے لاحق ہوتی ہے۔ ٹائیفائیڈ کی علامت میں لمبے عرصے تک ہلکا بخار رہنا اور سر میں درد ہونا شامل ہے۔

کوئی شخص ٹائیفائیڈ سے متاثر ہے یا نہیں یہ معلوم کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ اس شخص کے خون یا فضلات میں سالمونیلا ٹائفی کی جانچ کی جائے، ٹائیفائیڈ بخار آنتوں کے خون اور پرفوریشن کا سبب بن سکتا ہے۔ جس کے نتیجے میں یہ پیٹ میں شدید درد، متلی، قے اور عفونت (سپسیس) پیدا کر سکتا ہے. آنتوں میں ہونے والے نقصان کی مرمت کے لئے سرجری کی ضرورت ہو سکتی ہے۔

اس فتور سے مراد گندگی ہے، گندگی ہمیشہ کسی نہ کسی جراثیم کی افزائش کا باعث بنتی ہے۔ ٹائی فائیڈ فیور (حمی طیفوریه) ایک ایسے گروہ سے ہے  جو کہ گندے کھانوں سے پھیلتا ہے۔

اس بخار کا سبب جراثیم ’’  سیلمونیلا ٹائی فی ‘‘ ہے۔  یہ ایک متعدی مرض ہے جو ایک مریض سے صحت مند شخص کو پھیل سکتا ہے۔اس مرض کی مدّت اکیس ایام ہے یا اس سے زیادہ بھی رہ سکتا ہے۔ عموماً اس بخار میں باریک دانے جسم پر نکل آتے ہیں۔

یہ خصوصاً سینہ ،شکم اور پشت پر نمایاں ہوتے ہیں۔ اس کا مرکز’’ آنتیں‘‘ ہیں۔ یہیں اس جراثیم کے بُرے اثرات خون میں شامل ہوتے ہیں۔ اس بخار کے جراثیم چھوٹی آنتوں کے غدود میں ورم اور قرح (وہ زخم جس میں پیپ بھی پیدا ہوجائے) پیدا کرتے ہیں۔

یہ جراثیم جگر، تلی، پتہ، دماغ کی جھلیاں اور ہڈی کے گودے میں بھی سرایت کر جاتے ہیں اور فضلات کے ذریعے خارج ہوتے رہتے ہیں۔ اِن کی افزائش آنتوں میں بہت تیزی سے ہوتی ہے۔ جو دانے جسم پررونما ہوتے ہیں یہ جراثیم ان دانوں کے مواد میں بھی موجود رہتے ہیں۔

ٹائیفائیڈ بخار کیوں ہوتا ہے؟

 گندہ پانی، مضرصحت خوراک، ٹائیفائیڈ کی بڑی وجہ ہیں، بخار، کھانسی، جسم درد، پیٹ کی خرابی ٹائیفائیڈ  کی علامات ہیں۔ ٹائیفائیڈ میں بخار 103 اور 104 تک ہوتا ہے۔ اس مرض سے شفاء یاب ہونے کے بعد بھی کچھ لوگوں کے فضلات میں اس مرض کا جراثیم مہینوں تک خارج ہوتا رہتا ہے۔ یہ بیماری برسات اور تیز گرم موسم میں زیادہ پھیلتی ہے۔

ڈاکٹر کا کہنا ہے  بچوں اور نوجوانوں کو یہ مرض زیادہ تنگ کرتا ہے۔ بعض اشخاص میں اس مرض کے خلاف قوتِ مدافعت کمزور ہونے کی وجہ سے یہ مرض دوسروں کی نسبت جلدی ہوجاتا ہے۔ کھانے پینے سے پیدا ہونے والی بیماریاں بالخصوص اجتماعی پروگراموں اور سٹریٹ فیسٹیول یا ملتی جلتی تقریبات کے موقع پر جلد زیادہ لوگوں کو اپنی زد میں لے لیتی ہیں۔ کھانے پینےکے استعمال میں حفظان صحت کا خیال نہ رکھنے کی وجہ سے بار بار سخت قسم کی بیماریاں پیدا ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے، جوچھوٹے بچوں اور بوڑھے لوگوں کے لئے خطرہ جان ثابت ہو سکتی ہیں۔

پاکستان میں تیزی سے پھیلنے والے ’’ٹائی فائیڈ‘‘ بخار کا ذمہ دار جراثیم 2 تا 5 میکرون طویل اور0.5  تا 1.5 مائیکرون عریض ہے۔ اس مرض کے پھیلنے کا ذریعہ مریض کے بول و براز کے علاوہ مریض کا پسینہ اور تھوک ہیں۔ بعض علاقوں میں یہ مرض ایسے کنوؤں اورتالابوں سے پھیلتا ہے جس میں کسی مریض کے فضلات شامل ہوں، نیز کچے دودھ، گندے پانی سے کاشت کی گئی سبزیاں، مریض کے برتن، کپڑے وغیرہ سے مرض منتقل ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ اس مرض سے شفاء یاب ہونے کے بعد بھی کچھ لوگوں کے فضلات میں اس مرض کا جراثیم مہینوں تک خارج ہوتا رہتا ہے۔

 ٹائیفائیڈ بخار کی علامات

  •  ٹائیفائیڈ بخار کی علامات مختصر سے لے کر سنگین تک ہو سکتی ہیں اور بیکٹیریا کی زد میں آنے کے بعد عام طور پر ایک سے لے کر تین ہفتوں تک فروغ حاصل کرتی ہیں۔
  • پشت، اور پیٹ پر چھوٹے چھوٹے گول دانے گلابی دھبے نما بن جاتے ہیں، انہیں دبانے سے کچھ دیر تک انکی سرخی زائل ہوجاتی ہے پھر دوبارہ لوٹ آتی ہے یہ اس مرض کی خاص علامت ہے۔
  • عام طور پر جراثیم کے جسم میں داخل ہونے کے آٹھ سے پندرہ دن کے بعد یہ مرض ظاہر ہوتا ہے تاہم جراثیم کی طاقت اور انسان کی متاثرہ شخص کی قوت مدافعت  کے مطابق یہ مدت تین دن سے ایک ماہ تک بھی ہوسکتی ہے۔
  •  کچھ لوگوں میں سفید اور چمکدار دانے نکلتے ہیں، کبھی یہ دانے پہلو، پشت، بازو او ر رانوں پر بھی نکلتے ہیں۔ عموماََ تین ہفتے یا اس سے زائد عرصے تک پرانے دانے ختم اور نئے دانے بنتے رہتے ہیں، ہر دھبہ تین سے چار دنوں میں غائب ہوجاتا ہے۔ علاوہ ازیں:
  • بخار ( 102 تا 103 ڈگری فارن ہائیٹ)، حرارت کا پانچ دن تک روزانہ 2 درجہ بڑھنا (یہاں تک کہ  103  تا 104  فارن ہائیٹ تک پہنچ جاتی ہے۔
  • دس سے چودہ ایام کے بعد بخارکبھی چڑھتا اور کبھی اترتا ہے، صبح کو بخار معتدل اور شام کو 101 ڈگری  فارن ہائیٹ تک ہوجاتا ہے، پھر ایک دو دن بعد بخار صبح اور شام معتدل رہتا ہے مگر جسمانی کمزوری رہتی ہے ۔ بخار بالکل ٹھیک ہونے سے چند دن قبل سے ہی بھوک محسوس ہونے لگتی ہے۔
  • کبھی نکسیر ہو جاتی ہے، ناف کے نیچے دائیں جانب دبانے سے درد ہونا، بول وبراز کا بعض اشخاص میں رکنا اور بعض کا بے ارادہ خارج ہونا (حالتِ طیفوریه)۔
  •  دست کا رنگ زرد  اور قوام پتلا ہونا، کبھی ان میں خون کی آمیزش بھی ہوتی ہے، بول وبراز کا بعض اشخاص میں رکنا اور بعض کا بے ارادہ خارج ہونا (حالتِ طیفوریه)۔
  •  زبان کا خشک ہونا نیز زبان کے دونوں طرف سفید تہہ جم جاتی ہے، تلی بڑھ جاتی ہے،  بول کی مقدار کم، گاڑھا اور رنگ سیاہی مائل ہو جاتی ہے۔
  •  چہرہ غبار آلود، عضلات کا ضعف، زبان کا خشک ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ چہرے کا زرد ہونا،  ہاضمے کی شکایات۔ خشکی (خون کے گاڑھے ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے)، جسمانی کمزوری، دل اور دماغ کی کمزوری۔
  •  دانت پیلے، ہونٹ پر پپڑیاں،  نیند اور سستی میں اضافہ، پھیپھڑوں کے عروقِ خشنہ (برانکیولز) میں ورم۔  بعض لوگوں کو قبض اور بعض کو اسہال،  پیٹ اور سردرد، بھوک کی کمی، خارش، السر، سانس میں تنگی۔
  •  زخم اور پھٹی ہوئی جلد ، اگرالل ہوں، چکناہٹ کی تہہ والے ہوں، گیلے اور سوجے ہوئے ہوں۔

ٹائیفائیڈ سے بچاؤ کے طریقے

  • ہاضمہ درست رکھیں، قبض نہ ہونے دیں، اُبلا ہوا پانی استعمال کریں، مریض کو ہوا دار کمرے میں رکھیں تاکہ تندرست لوگوں کو نہ پھیلے۔  ٹائیفائائیڈ سے بچاؤ کے لیے عالمی ادارہ صحت ( دو ٹائیفائیڈ ویکسین کی سفارش کرتا ہے۔
  •  زبانی کیپسول کی شکل میں دیا جانے والا ایک لائیو، رقیق ویکسین ہے۔ ویکسینیشن کے پہلے دو سالوں کے اندر اندر، ویکسین بیماری کی روک تھام میں مناسب حد تک مؤثر ہوتا ہے۔ ابتدائی ویکسینیشن کے تین سال بعد، ویکسین کوئی تحفظ فراہم نہیں کرتا ہے۔ اس ویکسین کے لئے کم از کم عمر 5 سال سے زیادہ ہے۔
  • وی کپسولر سیکارائیڈ ایک انجیکٹ شدہ سب یونٹ ویکسین ہے۔ اس ویکسین کی سفارش دو سال یا اس سے بڑی عمر کے لئے کی جاتی ہے۔
  • مقامی بیماری اور شورش کو کنٹرول کرنے کے استعمال کے لئے اور دونوں ہی  کے ذریعہ منظور شدہ ہیں۔ یہ مشورہ دیتا ہے کہ صحت کی تعلیم، پانی کی صفائی اور معیار اور صحت کے اہلکاروں کی تربیت کو شامل کرتے ہوئے بیماری کی روک تھام کے لئے دیگر کوششوں کے ساتھ، ٹائیفائیڈ بخار کے واکسینیشن کے پروگراموں کو لاگو کیا جانا چاہیے۔ جہاں ٹائیفائیڈ بخار بچوں میں صحت کا ایک اہم عوامی مسئلہ ہے، اور خاص طور پر وہاں جہاں ایس ٹائفی کے اینٹی بایوٹک-ریززٹینٹ اسٹرینس سامنے آئے ہیں، یہ مشورہ دیتا ہے کہ ویکسینیشن کے پروگراموں میں پری-اسکول اور اسکول کی عمر بچوں کو شامل کیا جانا چاہئے۔
  • ان علاقوں میں دوبارہ ویکسینیشن کی ہر تین سے سات سالوں میں سفارش کی جاتی ہے جہاں ٹائیفائیڈ ویکسین معمول کے استعمال میں ہو۔ ان علاقوں میں سفر کے لیے جہاں ٹائیفائیڈ انفیکشن کا خطرہ ہے a یا کے ویکسینیشن کا بھی مشورہ دیا جا سکتا ہے۔ مسافروں کو عام طور پر روانگی سے ایک سے دو ہفتوں پہلے ٹائیفائیڈ ویکسین لینے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
  • کھانے پینے کی ان  اشیاء سے عموماً انفیکشن ہوسکتا  ہے کھانے پینے کی بعض اشیاء میں جراثیم بہت آسانی سے پھیل جاتے ہیں۔ جن میں درجہ ذیل شامل ہیں ۔
  • گوشت اور مرغی کا گوشت یا اسے بنائی گئی اشیاء، دودھ اور دودھ سےبنی ہوئی اشیاء ۔ انڈے اور انڈوں سے بنی ہوئی اشیاء، خاص طور پر کچے انڈوں سے بنی ہوئی چیریں، بیک کی ہوئی ایسی اشیاء جن میں ایسی چیزیں ہوں جو پوری طرح بیک نہ کی ہوں یا پوری طرح پکی نہیں ہوں، مثال کے طور پر کریم کیک یا اوپر کی تہہ، مچھلی، کیکڑے، سمندری غذا اور اسے بنی ہوئی چیزیں، آئس کریم اور آئس کریم سے بنی ہوئی اشیا، عمدہ کھانے، کچی اشیاء اور  اچار، میونیز یا سوس، اور چٹنیاں و غیره شامل ہیں۔

ٹائیفائیڈ بخار کا علاج

ٹائیفائیڈ بخار کا علاج عام طور پر اینٹی بائیوٹکس کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ یہ اینٹی بایوٹک سالمونیلا بیکٹیریا کو مار دیتی ہیں جو ٹائیفائیڈ کا سبب بنتے ہیں۔

اینٹی بائیوٹک لینے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں کہ آپ کو کس قسم کی اینٹی بائیوٹک، کتنی خوراک میں اور کتنی دیر تک استعمال کرنا چاہیے۔ اس سے زیادہ اینٹی بائیوٹکس نہ لیں جتنا آپ کو لینے کا مشورہ دیا گیا ہے ورنہ آپ کی حالت خراب ہوسکتی ہے

for more visit: oladocx.com

You May Also Like

About the Author: Dr. Maliha Khan

Leave a Reply

Your email address will not be published.