سرردیوں میں مچھلی کھانے کے زبردست فوائد

مچھلی

سردیوں میں مچھلی کھانے کے بے شمار فائدے ہیں اس کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جیسے ہی سردیاں شروع ہوتی ہیں لوگ مچھلی کو گھر میں لا کر مختلف طریقوں سے پکا کر سردیوں میں مچھلی کھانے کی روایت کو برقرار رکھتے ہیں۔ سردیوں میں مچھلی کو کھانا موسم سرما کی آمد کی نشاندہی کرتا ہے۔

موسم سرما میں مچھلی کو کھانے سے نہ صر جسم کو حرارت ملتی ہے بلکہ اسکے بے حد قدرتی غذائی اجزا جسم کو بے تحاشا بیماریوں سے لڑںے کی کی طاقت بھی فراہم کرتے ہیں۔ سردیوں میں کئی قسم کی مچھلیاں کھائی جاتی ہیں۔ اللہ کی زات نے مچھلی میں ب شمار فائدے چھپا رکھے ہیں جن سے ہمیں لازمی فائدہ اٹھانا چاہیے۔ مچھلی کی چند مشہور اقسام درج زیل ہیں۔

سردیوں میں کھائے جانے والی مختلف مچھلی کی اقسام

  • رہو مچھلی
  • بام مچھلی
  •  ٹرائوٹ مچھلی
  • سنگھاڑا مچھلی
  • گلفاف مچھلی
  • تھیلہ مچھلی
  • سلور مچھلی
  • مشاہیر مچھلی

مچھلی  کی افادیت  اور جسم میں وٹامن ڈی کی کمی 

 ہم سب جانتے ہیں کہ انسانی جسم کو وٹامن ڈی کی بہت ضرورت ہوتی ہے لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ سردیوں میں دھوپ کم نکلنے کی وجہ سے جسم میں وٹامن ڈی کی کمی ہو جاتی ہے۔ وٹامن ڈی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے بہت سارے پلیمینٹس بھی دستیاب ہیں لیکن انسانی جسم مچھلی سے کہیں زیادہ وٹامن ڈی کو جذب کرتا ہے جس میں وٹامن ڈی کے ساتھ اومیگا تھری اور فیٹی ایسڈ بھی زیادہ ہوتے ہیں اور جو جذباتی صحت کے ساتھ ساتھ قلبی صحت کو بھی بہتر بناتے ہیں۔

مچھلی کی افادیت جلد کی صحت مند بناتی ہیں

سردی کے موسم میں جلد سب سے زیادہ اثر انداز ہوتی ہے، بعض اوقات گرم بستر سے اٹھ کر باہر جانا پرتا ہے یا ہیٹر کے پاس سے اٹھ کر باہر جائیں تو جسم سرد یا گرم ہو جاتا ہے جو ہماری جلد پر بہت اثر انداز ہوتے ہیں۔

سردیوں میں جلد کھردری ہونے لگتی ہے، ہونٹ خشک ہونے لگتے ہیں سردی کا موسم بالواسطه  یا بلا واسطہ انسانی جلد پر اثر انداز ہوتا ہے جسم کی وجہ کم زیادہ درجہ حرارت ہے جو کھبی سرد اور کبھی گرم احساس دلاتا ہے۔ مچھلی میں موجود اومیگا 3 اور اومیگا 6 موجود ہوتا ہے اور یہ فیٹی ایسیڈ پر بھی مشتمل ہوتی ہے۔

یہ جلد کی اوپری تہ میں موجود ہوتے ہیں تا کہ آپکی جلد کو خشک ہونے سے بچا سکے۔ مچھلی کا استعمال خشک جلد کو بہتر بناتے ہیں خشک ہونے سے بچاتے ہیں کیونکہ مچھلی میں تیل موجود ہے جو جلد کو خشک نہیں ہونے دیتا۔

 مچھلی کی افادیت  گھٹنے کے درد کو دور کرتی ہے

جن لوگوں کو جوڑوں کا درد رہتا ہے یا وہ ہڈیوں کی کسی بھی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں تو اس درد کی شدت گرمی کے موسم میں اتنی محسوس نہیں ہوتی جتنی سردیوں میں ہوتی ہے۔ بہت سارے لوگ گرمیوں کی نسبت سردیوں کے موسم میں جوڑوں کے درد سے متاثر ہوتے ہیں۔ مچھلی میں موجود اومیگا 3 اور فیٹی ٰایسیڈ  ہوتا ہے جو سردیوں میں گھٹنوں کے درد کو کم کرتا ہے اور ہڈیوں کو مضبوط  بناتا ہے اس لیے سردیوں میں مچھلی کے استعمال کو لازمی بنائیں۔

اگر آپ سالمن، میکریل، ٹونا اور دیگر اومیگا تھری سے بھرپور مچھلی زیادہ کھاتے ہیں تو آپ کے درد اور سوزش کے خلاف بہتردفاع حاصل ہوتا ہے۔ مچھلی میں آئرن، زنک، میگنیشیم، کیلشیم، نیاسین، سیلینیم اور وٹامن اے 12 اور ڈی جیسے معدنیات حاصل کرنے کے لیے مچھلی کھانا بھی ایک بہترین طریقہ ہے۔ گرمیوں میں مچھلی کا استعمال کرنے سے پرہیز کریں کیونکہ گرمیوں میں کا استعمال اسهال اور دیگر بیماریوں کا باعث بن سکتی ہے۔

مچھلی کا استعمال پھیپھڑوں کی حفاظت کرتا ہے

سردیوں میں آپکے پھیپھڑے بہت جلد متاثر ہوتے ہیں اور کھانسی، نزلہ، زکام پھیپھڑوں کو کمزور کر دیتے ہیں۔ اگر آپ ان سب بیماریوں کا علاج چاہتے ہیں تو سردیوں میں مچھلی کا استعمال لازمی کریں۔ مچھلی میں موجود فیٹی ایسیڈ  پھیپھڑوں میں ہوا کے بہائو کو تیز بناتے ہیں اور سانس لینے میں آسانی ہوتی ہے۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو اپنے پھیپڑوں کو مضبوط بنانے کے لیے مچھلی کا استعمال کرنا ضروری ہے۔

مچھلی کے تیل کے انگنت اور حیرت انگیز فائدے

  • کارڈلیور آئل ایک خاص قسم کا تیل ہوتا ہے جو ہمارے کھانے کے لیے مفید ہے اسی طرح مچھلی کا تیل بھی فائدے مند ہوتا ہے جو ہم اپنے کھانے میں سبزیوں میں استعمال کرتے ہیں۔
  • مچھلی کے تیل میں موجود تیل صحت مند ہوتا ہے جو ہمارے ہماری نسوں کی تعمیرومرمت میں بے حد مدد دیتے ہیں کیونکہ مچھلی میں اومیگا 3 موجود ہوتا ہے۔
  • سردیوں میں مچھلی کا تیل پینا زیادہ صحت مند ہوتا ہے۔
  • مچھلی کے تیل کو پینے سے ایسی توانائی حاصل ہوتی ہے جس سے مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے۔
  • مچھلی کے تیل کا استعمال بیماریوں سے لڑںے کی طاقت پیدا کرتا ہے۔
  • انجائنا کے مریض مچھلی کے تیل کو استعمال کرتے ہیں جس سے وہ جلد ٹھیک ہوجاتے ہیں۔
  • مچھلی کے تیل میں موجود اومیگا 3 قلب کی بیماریوں سے بچنے کی طاقت رکھتا ہے۔
  • جب ہمارے جسم میں چربی کی مقدار بڑھ جاتی ہے تو یہ چربی ہمارے شریانوں میں جم جاتی ہے جس کی وجہ سے چریانیں سکڑنے لگتی ہیں لیکن مچھلی کا تیل استعمال کرنے سے بند شریانیں کھلنے لگتی ہیں۔
  • دمے کے مریض کو مچھلی کا تیل لازمی استعمال کرنا چاہیے اس سے دمے کی تکلیف میں کمی آئے گی۔
  • مچھلی کا تیل جسم کا مدافعتی نظام بھی لیول پر رکھتا ہے۔
  • یہ تیل عام نوعیت کی بیماریوں سے بچاتا ہے جیسا کہ نزلہ، زکام اور کھانسی سے محفوظ رکھتا ہے۔
  • اس تیل کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ اس کے استعمال سے جسم کو افادیت ہے حاصل ہوگی نہ کہ کوئی نقصان ہوگا۔
  • مچھلی کی گولیاں کھانے سے یا مچھلی کا تیل استعمال کرنے سے سانس کی نالیوں میں چکنائی نہیں جمتی اور سانس کی نالیاں درست کام کرتی ہیں۔
  • مچھلی کے تیل کے بے شک بہت فائدے ہیں لیکن اس تیل کا استعمال معالج کے مشورے کے بغیر نہیں کرنا چاہیے۔
  • اسکا استعمال اظاھیمر سے حفاظت کرتا ہے۔
  • مچھلی کے تیل کا استعمال ڈیمینشیا اور ذیابیطس سے بچاتا ہے۔
  • اسکے استعمال سے اعصابی دبائو کم ہوتا ہے۔
  • زہنی صلاحیت کو بڑھانے میں مدد کرتا ہے۔ مچھلی کھانے سے آپ سرطان سے بچ سکتے ہیں۔
  • مچھلی کھانے سے آپکا وزن متوازن رکھنے میں مددگار ہے۔ مچھلی کھانا مرد حضرات کے لیے فائدہ مند ہے۔ مچھلی کھانے سے کولیسٹرول کی سطح کنٹرول میں رہتی ہے۔

تازہ مچھلی کی پہچان

تازہ مچھلی کھانی ہے تو ان باتوں کی پہچان کر کے خریدیں۔ تازہ مچھلی کی پہچان آپ ان باتوں سے کر سکتے ہیں، سب سے پہلے مچھلی کی آنکھیں دیکھیں اگر ان میں چمک ہوگی تو یہ مچھلی تازہ ہے اس کے علاوہ اس کے جسم کو انگوٹھے سے دبائیں اگر جسم میں گڑھا پر جائے تو یہ تازہ مچھلی نہیں ہے۔ اسی طرح مچھلی کے پڑوں کو کھینچ کر دیکھیں اگر آسانی سے الگ ہوجائیں تو یہ بھی مچھلی تازہ نہیں ہے۔

تازہ مچھلی کی پہچان یہ کہ مچھلی کو گلپھڑے سے دیکھیں کہ وہ سرخ ہے تو تازہ ہے اور اگر کالا ہے تو پرانی مچھلی کی نشاندہی ہے۔ مچھلی خریدنے کے بعد آپ اس کو نمک، لیمو اور اجواین لگا کر تھوڑی دیر کے لیے رکھ دیں اور تب تک رکھا رہنے دیں جب تک اس میں سے پانی نہ نکل جائے پھر اس مچھلی کو 24 گھنٹے مصالہ لگا کر اسے پریزر میں رکھ دیں اور اسکے بعد مچھلی کو پکائیں اس سے مچھلی کا ذائقہ دوبالا ہوگا۔ اپنے بچوں کو مچھلی لازمی کھیلائیں کہ اس سے انکی یادداشت تیز ہوگی اور وہ مستقبل میں ایک کامیاب انسان بن سکیں گے

for more visit: oladocx.com

You May Also Like

About the Author: Dr. Maliha Khan

Leave a Reply

Your email address will not be published.