سردیوں میں گڑ کا استعمال اور اس کے بے شمار فوائد

گڑ

سردیوں میں گڑ کا استعمال

موسم سرما میں کچھ ایسی غذائیں موجود ہوتی ہیں جن کا استعمال ٹھنڈ کو بھگانے کے لیے فائدے مند ثابت ہوتا ہے۔ ایسی غذائیوں کے استعمال سے سردیوں میں ہونے والی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔ غذائی ماہرین کے مطابق سردیوں میں جہاں بہت سی مزے دار رنگ برنگی موسمی سبزیوں اور پھلوں کا استعمال بڑھ جاتا ہے وہیں یہ موسم گنے کے رس سے بنے گڑ کھانے کا بھی ہوتا ہے۔

گڑ تاثیر میں گرم اور افادیت میں بہترین غذا کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ گڑ کے ساتھ اگر کالے چنے ملا کر کھائے جایئں تو مجموعی صحت پر ان کے بے شمار فوائد بڑھ جاتے ہیں۔ غذائی ماہرین کے مطابق گڑ پروسیسڈ سفید چینی کے مقابلے میں سو گنا زیادہ بہترین میٹھا ہے۔

Gur in English

Gur is known is “jaggery” in English. It is a traditional non-centrifugal sugar made by boiling sugar cane juice, palm sap, or date sap till the water evaporates and all that’s left is a viscous, concentrated mixture. This mixture is then cooled, solidified and cut into delicious sugary blocks.

گڑ کے فوائد – Gur/Jaggery Benefits

  • ٹھنڈ کی وجہ سے اگر کان میں درد ہو رہا ہو تو گڑ میں تھوڑا دیسی گھی ڈال کر کھائیں جس سے فوری راحت ملے گی۔
  • گڑ وٹامن سی کا ایک اچھا ذریعہ ہے جو ہڈیوں کو مضبوط بنات ہے۔ اس میں کیروٹین، نیکوٹین اور وٹامن اے بی بھی موجود ہے۔
  • گڑ کا استمال وذن میں کمی کا باعث بنتا ہے۔ جو لوگ موٹآپے سے پریشان ہیں ان کو چاہیے کہ چینی کی جگہ گڑ کا استعمال شروع کر دیں۔
  • گڑ میں کیلشیم اور فاسفورس پایا جاتا ہے جو کہ ہماری ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے۔
  • کھانسی میں گڑ کی چائے بنا کر پئیں جس سے کھانسی بہت جلد دور ہو جائے گی۔
  • گڑ خون کو صاف کرتا ہے جس سے رنگ بھی صاف شفاف ہوتا ہے۔
  • جسم پے پر جانے نشانات کو ختم کرتا کرنے میں بے حد مفید ہے۔
  • یاداشت اور جگر کی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے۔
  • گڑ کا استعمال ورم اور سوجن سے نجات دلاتا ہے۔
  • گڑ بلڈ پریشر کو کنٹرول کرتا ہے۔
  • سردرد کو دور بھگاتا ہے۔
  • خون کی کمی کو دور کرتا ہے۔
  • تھکاوٹ کا خاتمہ کرتا ہے۔
  • دمے جیسی بیماری میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
  • برانکائیٹس جیسی بیماری میں مدد کرتا ہے

سردیوں میں گڑ کھانے کے بے شمار فائدے ہیں جن میں درج ذیل موجود ہیں۔ گڑ میں پوٹاشیم، آئرن اور کیلشیم اور دیگر منرلز پائے جاتے ہیں جو ہماری مشکلات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔  گڑ نہ صرف بیماریوں بلکہ بہت ساری انفیکشن سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔ گڑ کو گنے کے رس کو ابال کر تیار کیا جاتا ہے اور یہ چینی کے مقابلے میں کم ریفائین ہوتا ہے اور ریفاین ہونے کے بعد گڑ اپنے اندر ان گنت فائدے رکھتا ہے۔

گڑ کا کالے تلوں کے ساتھ استعمال

سردیوں میں گڑ اور کالے تلوں کو ملا کر ان کے لڈو بنا لیں اور پوری سردیوں میں ان لڈوئوں کی لذت سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

ان دونوں کے غذائی فائدے جسم میں بھرپور قوت مدافعت کو بڑھانے میں بے حد مدد کرتے ہیں۔ وہ بچے جو نیند میں بستر پر پیشاب کر دیتے ہیں ان کو گڑ اور تلوں کا ایک مکسچر بنا کر صبح شام کھلائیں جس سے بچوں میں بستر پر پیشاب کی شکایت کافی حد تک ٹھیک ہو جائے گی۔

ہچکی روکنے کے لیے مفید ہے

ہچکی کو روکنے کے لیے گڑ کو ایک بہترین ٹانک سمجھا گیا ہے۔ ہچکی کو روکنے کے لیے گڑ کو کچھ اس سے استعمال کریں کہ یہ ہچکی کو روکنے میں جلد ہی فائدہ مند ثابت ہو۔  ایک چمچ پرانے گڑ کو خشک کر کے پیس لیں اور پھر اس میں پیسی ہوئی سونٹھ ملا کر رکھ لیں۔ اس مکسچر کو سونگھنے سے ہچکی کے مسلے سے باآسانی سے بچا جاسکتا ہے۔

بلڈ شوگر لیول کے لیے

گڑ کھانے سے جسم کے اندر گلوکوز کی سطح پر زیادہ اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اسے لیے کھانے کے بعد ایک چٹکی گڑ کھانا  بھی اس بیماری میں مبتلا افراد کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔ شوگر کے مریضوں کو میٹھی چیزیں کھانے کا زیادہ دل چاہتا ہے مگر چوگر کے  مریضوں کو چینی استعمال کرنے سے سختی سے منع کیا جاتا ہے۔

چینی کا استعمال شوگر کے مریضوں کے لیے ایک خطرہ سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ شوگر کے مریضوں میں انسولین کی مقدار کو بڑھاتا ہے۔ ایسے میں گڑ کا استعمال شوگر کے مریضوں میں نہ صرف میٹھا کھانے کی چاہت کم کر دیتا ہے بلکہ اس کے استعمال سے کئی مفید فائدے بھی ہوتے ہیں۔

بھنے کالے چنوں کے ساتھ گڑ کا استعمال

ٖغذائی ماہرین کے مطابق بھنے ہوئے کالے چنے جہاں انسانی صحت کے لیے  بے شمار فوائد کے حامل ہیں وہیںان کا استعمال سردیوں کے موسم میں باآسانی سے کیا جاسکتا ہے۔ غذائی ماہرین کے مطابق گڑ اور چنوں کا ملا کا استعمال پیٹ سے جڑے بہت سے مسائل ختم ہوجاتے ہیں۔ جبکہ یہ دونوں غذائیں سردی کی شدت کو کم کرنے اور جسم میں حرارت بڑھانے میں بھی معاون کردار ادا کرتی ہیں۔ سردیوں میں جو لوگ ڈائیٹ پلان کو فولو کرتے ہیں ان کو چایئے کہ ایک وقت کا کھانا ترک کر کے اس کی جگہ کالے چنوں اور گڑ کا استعمال کریں اور اپنی روٹین کی غذا میں اسے شامل کر لیں۔

ماہواری کے درد میں راحت دیتا ہے

خواتین کے لیے گڑ خاص طور پر فائے مند ہے۔ روز تھوڑی مقدار میں اگ گڑ کھایا جائے تو اس سے ماہواری کا درد کے دوران پیٹ درد اور سردرد دے نجات ملتی ہے۔ پریڈس میں خواتین کے پورے جسم میں درد ہوتی ہے اور وہ تب تک ہوتی ہی رہتی ہے جب تک ماہواری کا درد کا اپنا وقت نہ ختم ہو جائے۔ بہت ساری عورتوں کو تو اس درد میں انجیکشن بھی لگوانے پرتے ہیں انہیں چاہیے کہ ان دنوں میں کھانے میں گرم چیزوں کا استعمال کریں۔ ان درد میں گڑ کا استعمال روزانہ کھانے میں تھوڑی مقدار میں روزانہ کرنا چاہیے۔

ماہواری کے دوران خواتین کو چاہیے کہ سوکھا دھنیا اور گڑ کا سفوف بنا کر اسکا استعمال کریں۔ اس کے استعمال سے خون بہنے کا عمل ٹھیک رہتا ہے اور اس کے علاوہ اگر کسی خاتون کو ماہواری نہ آرہی ہو تو اسے اسکا سفوف استعمال کرنا چاہیے کہ اس سے ماہواری کا عمل ٹھیک ہو جائے گا۔

ہاضمے کے نظام کو مضبوط بناتا ہے

گڑ ہاضمے کے نظام کو مضبوط بناتا ہے۔ اس کے با قاعده استعمال سے گیس، بد ہضمی اور ایسی ڈیٹی جیسی بیماریوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔ یہ جسم کے ہاضمے کے ایک ایجنٹ کے طور پر کام کر سکتا ہے۔گڑ قبض کشا ہے۔ گڑ قبض کو  بھی دور کرتا ہے۔ جن لوگوں کو قبض کی بیماری ہو انہیں گڑ کا استعمال باقائدگی سے کرنا چاہیے۔

خالص گھی کے ساتھ گڑ کا استعمال قبض کے مسلے سے نجات دلاتا ہے۔ کھانے کے بعد ایک چمچ گڑ اور خالص گھی کھانے سے ہمارا نظام انہضام بہتر طریقے سے کام کرے گا اور اس کے ساتھ ساتھ قبض سے بھی نجات ملتی رہے گی۔

رات کو سونے سے پہلے گڑ کھانا مفید ہے

رات کو سونے سے پہلے گڑ کھانا انسان کا مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے۔ اگر رات کو سونے سے پہلے گڑ کو دودھ کے ساتھ پیا جائے تو نیند اچھی آئے گی۔ کام میں زیادتی کے باعث لوگوں میں نیند نہ آنا بھی ایک بیماری کی شکل اختیار کر چکی ہے جو کہ صحت کے لیے اچھی چیز نہیں ہے۔ اچھی زندگی کے لیئے اچھی صحت کا ہونا بہت ضروری ہے جس میں نیند کا کردار بہت اہم ہے۔

نیند پوری ہونے کی وجہ سے انسان دوبارہ اپنے سارے کام با آسانی سر انجام سے سکتا ہے۔ جن لوگوں کو نیند سے متعلق مسائل ہیں ان کو چاہیے کہ رات کو گڑ کھا کر سوئیں اس سے معدہ سکون میں رہے گا اور نیند بھی پوری ہو جائے گی۔

دمے کے لیے معاون

گڑ جسم کے اعضا کے لیے کلینیک ایجینٹ سمجها جاتا ہے۔ ایک آرٹیکل کے مطابق گڑ پھیپھڑوں ، معدے، انتوں، گلے اور سانس کی نالی کی صفائی کے لیے بہترین ثابت ہوا ہے۔ روزانہ باہر جانے اور فضائی آلودگی میں سانس لینے کی وجہ سے سانس کے متعلق بے شمار مسائل پیدا ہوت ے ہیں۔ سانس کے ان مسائل پر قابو پانے کے لیے روزانہ تھوڑا سا گڑ کھا لینا صحت کے لیے معاون ہے۔

سوزش کو کم کرتا ہے

جسم میں اندرونی سوزش کے نتیجے میں جلن کی کیفییات جنم لیتی ہیں جو کسی بھی انسان میں تنائو اور بے چینی کا سبب بن سکتی ہیں۔ سردیوں میں جسم کو گرم رکھنے کے لیے جسم کے اندرونی حصے پر انحصار نہیں کیا جاسکتا لیکن جسم کو ضروری گرماہٹ دینے والی غذا پر ضرور انحصار کیا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ تل کے لڈو جسم کی اندرونی سوزش کو دور کرنے والی غذائوں میں سر فہرست ہے۔ اس میٹھی غذا کا استعمال آپکو سوزش سے بچا کر سرد موسم سے بھی تحفظ دے گا۔

ہڈیوں کو مضبوط بنائیں

ہڈیاں جسم کے تمام اعضاٰء کی حفاظت میں مدد کرتی ہیں۔ یہ جسم کی ساخت کو مضبوط رکھتی ہیں۔ اگر ہڈیاں مضبوط ہونگی تو دیگر اعضا کی حفاظت کے ساتھ ساتھ جسم کے کئی افعال کی انجام دہی میں مشکل پیش آئے گی اور آپ کھل کر زندگی سے لطف اندوز نہیں ہو سکیں گے۔ گڑ ہڈیوں کی سوزش کو کم کرتا ہے۔ آتھرائسٹس یا گھٹنے کے درد اور سوزش میں مبتلا افراد 5 گرام گڑ اور 5 گرام ادرک کا پائوڈر استعمال کریں۔ اس کے استعمال سے نہ صرف گھنٹنے کے درد سے نجات ملے گی بلکہ ہڈیوں میں پر جانے والی سوزش سے بھی نجات مل جائے گی۔

بچوں والی مائوں کے لیے مفید

بچوں والی مائیں جن کا دودھ بچوں کو پورا نہ ہوتا ہو وہ سفید زیرے کا سفوف اور گڑ صبح، شام دودھ کے ساتھ استعمال کریں انکا یہ مسلہ حل ہو جائے دودھ بڑھ جائے گا۔ وہ لوگ جن کو پیشاب کے قطرے آتے ہیں وہ گڑ اور تل کے بنے لڈو بنا کر کھائیں تو ان لوگوں اس بیماری سے نجات مل سکتی ہے۔

دودھ پلانے والی خواتین کے لیے گڑ اور گوند کا مرکب اچھا سمجھا جاتا ہے۔ یہ خواتین میں دودھ بڑھانے والے ایجنٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہی نہیں گڑ اور گوند کے استعمال سے خواتین کی ہڈیاں بھی مضبوط ہونگی۔

دماغ کی تیزی کے لیے

وہ تمام طلبا جن کو یہ شکایت ہوتی ہے کہ ان کو سبق جلدی یاد نہیں ہوتا وہ صبح شام گڑ کا حلوہ کھایا کریں۔ اس حلوے کے استعمال سے حافظہ تیز ہو جاتا ہے اور یاداشت بڑھ جاتی ہے۔ طلبا کو پڑھائی میں بہت دماغ لگانا پڑتا ہے اس لیے انہیں سب سے پہلے اپنی خوراک کو ٹھیک رکھنا چاہیے۔ دماغ کے لیے گڑ کا استمال بہترین ہے اگر اس میں دماغ تیز کرنے والی دوسری چند اشیا بھی شامل کی جائیں جیسا کہ گڑ میں بادام، سونف الائچی وغیرہ ڈال کر پھر اس میں دیسی گھی ڈال کر اسکا سفسوف بنا کر بچوں کو لازمی دیں اس سے انکا حافظہ تیز ہو جائے گا۔

ہلدی کے ساتھ گڑ کو کھانا ہمارے جسم کی قوت مدافعت کے لیے ایک نعمت ہے۔ یہ ایمیون سسٹم کو طاقتور بناتا ہے۔ یہ جسم کو وائرل بیماریوں سے لڑنے کی بھی طاقت رکھتا ہے۔ یہ نہ صرف بچوں کے لیے مفید ہے  بلکہ بڑے، بوڑھے بھی اس کا استعمال کر سکتے ہیں۔

انیمیا کی بیماری میں گڑ کا استعمال

گڑ میں جو فولاد پایا جاتا ہے وہ انیمیا کا بہترین علاج ہے۔ یہ خون میں ہیموگلوبن کی مقدار کو بڑھاتا ہے۔ انیمیا کے شکار افراد میں آکسیجن کی کمی ہوتی ہے کیونکہ ایسے مریضوں کو سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔ گڑ کھانے سے سانس میں ہونے والے تمام مسائل سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔

گڑ سے بواسیر کا علاج

گڑ سے بواسیر کا علاج کیا جاسکتا ہے، اس کے علاج کے لیے آپ پیپل لے 10 گرام پتے لے لیں، 10 گرام دار چینی اور 10 گرام ہی تیز پتہ لے لیں، کالی مرچ 30 گرام لے لیں، 30 گرام سونٹھ اور 100گرام ہرڑکا سفوف تیار کرلیں۔ اس سفوف میں 25 گرام گڑ ڈال کر ان کے لڈو بنا لیں۔ صبح شام ایک ایک لڈو گرم پانی کے ساتھ کھاتے رہیں اس سے بواسیر آہستہ آہستہ جاتی رہے گی۔

آدھے سردرد کے لیے

ذہنی دبائو کی وجہ سے جو سر میں آدھے سر کا درد رہتا ہے جس کو درد شقیقہ بھی کہتے ہیں۔ اس بیماری کے لیے صبح سورج نکلنے سے پہلے اور رات کو ساتے وقت 12 گرام گڑ 6 گرام دیسی گھی میں ملا کر چند دن کے لیے کھائیں، سر کا درد بہت جلد ختم ہو جائے گا۔

سردی میں نزلہ ہونے کی صوت میں

سردی کے موسم میں نزلہ ہونے کی صورت میں گڑکا استعمال ایک بہترین آپشن ہے۔ سردی کے موسم میں ٹھنڈی ہوائوں اور کھانے پینے میں بے احتیاطی برتنے کی وجہ سے نزلہ ہو جاتا ہے اور یہ نزلہ مستقل رہنے لگتا ہے جس کی وجہ سے سر میں بھی درد شروع ہا جاتی ہے۔ ایسے میں گڑ اور بھنا ہوا ادرک گرم پانی کے ساتھ سونے سے پہلے استعمال کرنے سے دائمی نزلہ زکام اور درد میں افاقه ہو گا۔

پرانی کھانسی کی نجات کے لیے

سردی میں خشک یا بلغم والی کھانسی ایک عام مگر تکلیف دہ مسلہ ہے لیکن گڑ کا استعمال کر کے اس مسلے سے فوری رلیف مل سکتا ہے۔ پرانی کھانسی کے لیے 10 گرام سرسوں کے تیل میں 10 گرام گڑ ڈال کر صبح شام اس کا ایک چمچ لینے سے پرانی کھانسی سے نجات مل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ صبح شام ایک چمچ صرف گڑ کا سفوف کھا لینے سے بھی پرانی کھانسی سے نجات مل جاتی ہے۔ اگر کسی مریض کا ملریا بخار نہ اتر رہا ہو تو اسے کالا زیرہ اور گڑ کا سفوف بنا کر لھلانے سے بخار سے نجات مل سکتی ہے۔

ادرک اور گڑ کا استعمال کرنے سے پرانی کھانسی یا بخار چلا جاتا ہے۔ اگر آپ بخار یا کسی بیماری سے فوری نجات حاصل چاہتے ہیں تو ادرک کا پائوڈر گڑ کے ساتھ ملانا بہت فائدے مند ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ صحت کی بحالی کو تیز کرتا ہے۔

گڑ اور مونگ پھلی کا استعمال

گڑ کا مونگ پھلی کے ساتھ امتزاج نہ صرف ذائقے میں بہترین ہے بلکہ جسم میں طاقت بھی پیدا کرتا ہے۔ یہ بھوک کو دور کرنے میں مفید ہے۔ اس سے موٹاپے کے مریض کو قابو میں کیا جاسکتا ہے کونکہ موٹاپا بلا وجہ لگنے والی بھوک سے پیدا ہونے والی ایک بیماری ہے

for more visit: oladocx.com

You May Also Like

About the Author: Dr. Maliha Khan

Leave a Reply

Your email address will not be published.