جلد کی ایکنے (کیل مہاسے) کیسے دور کی جائے

کیل

ایکنے یعنی جلد پر نمودار ہونے والے کیل مہاسے جلد کی ایک ایسی کیفیّت کا نام ہے کہ جب جلد کے نیچے موجود بالوں کی جڑوں والے گڑھوں یا فولیکلز (follicles) میں چکنائی یا جلد کے مردہ خلیات کے بھر جانے کی وجہ سے یہ گڑھے بھر جاتے ہیں اور پھر کیل مہاسوں کی صورت میں جلد سے اوپر ابھر آتے ہیں۔ ایسے ابھار کبھی سفید کانٹوں کی طرح کے کیلوں (Whiteheads)، کبھی کالی کیلوں (Blackheads)، اور کبھی سرخ رنگ کی چھوٹی پھنسیوں جو کبھی پیپ بھری اور کبھی خشک ہوتی ہیں (pimples) کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں۔ اس سے عام طور پر چہرہ، پیشانی، چھاتی، پشت کے اوپری حصے اور کندھے متاثر ہوتے ہیں۔ کیونکہ جسم کے ان حصوں میں چکنی رطوبت پیدا کرنے والے غدودوں (glands۔(sebaceous کی کثرت ہوتی ہےایکنے سے عام طور پر بالی عمر کے افراد (teenagers) ہی متاثر ہوتے ہیں لیکن یہ بڑی عمر کے لوگوں میں بھی نمودار ہو سکتی ہے۔

جلد کی ایکنے کا علاج موجود تو ہے اور موثر بھی ثابت ہوتا ہے لیکن اس کے مکمل خاتمے میں کچھ دیر لگتی ہے۔ کیونکہ ایک کیل مہاسے کے دور ہوتے ہی اس کے قریب ہی کوئی دوسرا نمودار ہو جاتا ہے۔

وجوہات

ایکنے کا علاج کرنے کے لیے یہ ضروری ہوتا ہے کہ اس کی وجوہات کے بارے میں علم ہو کیونکہ وجہ دور کر کے ہی علاج کو موثر بنایا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں چار بڑے عوامل کو ایکنے کی وجہ قرار دیا گیا ہے:

  • زیادہ چکنائی کا پیدا ہونا؛
  •  بالوں کے زیرِ جلد گڑھوں (follicles) کا چکنائی اور جلد کے مردہ خلیات سے بھر جانا؛
  • بیکٹیریا؛ اور
  • ایک مخصوص قسم کے ہارمون، اینڈروجن (androgen) کا زیادہ متحرک ہو جانا۔

ان وجوہات کے علاہ ایکنے کو بڑھاوا دینے والے عوامل درجِ ذیل ہیں:

  •  ہارمون؛
  •  کسی دوا کا ذیلی اثر؛
  •  خوراک میں بے اعتدالی؛ اور
  •  دباؤ

ایکنے کے بارے میں پائے جانے والے اوہام غلط تصورات 

  • زیادہ چکنائی والی خوراک: زیادہ چکنائی والی خوراک کے استعمال کا ایکنے کے ہونے یا بڑھنے سے تعلق بہت تھوڑا بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے، البتہ ایسے ماحول میں زیادہ رہنا جہاں کی فضاء میں تیل کے بخارات موجود رہتے ہوں جیسے کہ باورچی خانہ، تیل یا چکنائی کے چہرے پر چپک جانے کی وجہ سے بالوں کے مساموں کے بند ہو جانے کی وجہ بن سکتا ہے۔
  •  حفظانِ صحت کے اصولوں سے لا پرواہی: ایکنے ہونے کی وجہ جلد کا گندہ رہنا نہیں ہوتی بلکہ منہ ہاتھ بہت رگڑ رگڑ کر دھونا جلد کے پھٹنے کی وجہ سے ایکنے کی مزید خرابی کا باعث بن سکتا ہے؛ اور
  •  بناؤ سنگھار میں مستعمل اشیاء یا کاسمیٹکس: کاسمیٹکس، خاص طور پر جب ایسی کاسمیٹکس استعمال کی جارہی ہوں جن میں چکنائی بالکل نہ ہو اور یہ مساموں کو بند کرنے والی نہ ہوں، ایکنے کی نہ تو وجہ بنتی ہیں اور نہ ہی اسے بڑھاوا دینے والی ثابت ہوتی ہیں۔

:جلد کی ایکنے کا علاج 

اگر آپ جلد کی ایکنے کا علاج کرنے کے لیے فارمیسیوں پر بغیر ڈاکٹری نسخے کے دستیاب ادویہ کو کئی ہفتوں کے استعمال کے باوجود بھی غیر موثر پاتے ہیں تو پھر آپ کو اپنے ڈاکٹر صاحب کے مشورے سے زیادہ مقوی ادویات لینا ہونگی۔ کوئی بھی جلدی امراض کا ماہر ڈاکٹر آپکی ایکنے سے نجات حاصل کرنے میں تین طرح سے آپ کا مدد گار ثابت ہو سکتا ہی یعنی یہ کہ:

  1.  ایکنے پر قابو کیسے پایا جائے؛
  2.  آپ کی جلد پر زخموں کے نشانات نہ پڑیں اور اسے کوئی دوسرا نقصان نہ پہنچے؛ اور
  3.  اس کی طرف زیادہ توجہ نہ جائے۔

جلد کی ایکنے کا علاج کرنے  کے لیے مستعمل ادویہ چکنائی کی جلد میں پیداوار کو کم کرنے، جلد کی دوبارہ سے بحالی اور بیکٹیریا کے انفیکشن کو دور کرنے کے خواص کی حامل ہوتی ہیں۔ نسخے کے مطابق ملنے والی جلد کی ایکنے کا علاج کرنے کی دوائیں اپنا اثر دکھانے میں کم از کم چار سے آٹھ ہفتے کا وقت لیتی ہیں اور عین ممکن ہے کہ آپ کی جلد دوبارہ بحال ہونے سے پہلے مزید خراب ہوتی ہوئی نظر آئے۔ آپ کی جلد کی ایکنے کا علاج اپنا پورا اثر دکھانے میں کئی مہینے یا سال کا عرصہ بھی لگا سکتا ہے۔

جلد کی ایکنے کا علاج کرنے کے لیے مستعمل ادویات: یہ دو طرح کی ہوتی ہیں؛

  1.  مقامی طور پر، مرہموں، کریموں یا لوشنوں کی صورت میں استعمال کی جانے والی، جیسے کہ
    1.  ریٹی نائڈز اور ریٹی نائڈز کی طرح کی ادویات (Retinoids and retinoids like drugs)؛
    2.  اینٹی بایوٹک مرہمیں اور کریمیں؛
    3.  سیلی سلک ایسڈ اور ایزیلائک ایسڈ (Salicylic acid and azelaic acid)؛ اور
    4. ڈیپسون (Dapsone)۔
  2.  کھانے والی ادویات:
    1. اینٹی بایوٹکس؛
    2.  اینٹی اینڈروجین ایجینٹس (anti androgen agents)؛ اور
    3.  آئسو ٹریٹینون (Isotretinone)۔

جلد کی ایکنے کا علاج کرنے کے اور بیشمار طریقے اور مشورے آپ کو انٹرنیٹ اور ویب سائٹوں اور اخبارات، ٹی وی چینلوں اور رسائل پر بھی دستیاب ہوتے ہیں لیکن ان کا بغیر کسی مستند اور ماہر ڈاکٹر کے مشورے اور نگرانے کے استعمال مفید ثابت ہونے کی بجائے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے

for more visit: oladocx.com

You May Also Like

About the Author: Dr. Maliha Khan

Leave a Reply

Your email address will not be published.